kirdarکردار__!فرض کیجیئے آپ کسی محفل یا کسی عام جگہ کھڑے چائے پی رہے ہیں اور قریب سے گزرنے والا کوئی شخص، زور دار طریقے سے آپ سے ٹکرا جاتا ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کے کپ سے چائے چھلک جائے گی۔کوئی آپ سے دریافت کرے کہ آپ کے کپ سے چائے ہی کیوں چھلکی؟تو یقیناً آپ کا جواب ہوگا کہ جب کپ میں تھی ہی چائے تو چائے ہی چھلکنی تھی۔ کیونکہ وہی کچھ چھلکے گا، جو آپ کے کپ میں ہوگا۔بالکل اسی طرح زندگی میں ہمیں جب کبھی کوئی دھکا لگتا ہے، تو ہماری اصلیت چھلکتی ہے-یعنی جو ہمارے اندر تربیت کے ذریعے ڈالا گیا ہوگا یا کردار سازی کی صورت ہم نے خود اپنے اندر اکٹھا کررکھا ہوگا، وہ سامنے آ جاتا ہیں-انسان کی اصلیت تب ہی سامنے آتی ہے، جب اسے دھکا لگتا ہے یا کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے۔تو دیکھنا یہ ہے کہ آپ کو دھکا لگا، تو کیا چھلکا؟صبر، خاموشی، شکر گذاری، رواداری، سکون، انسانیت، وقار!یا__!غصہ، کڑواہٹ، جنون، حسد، نفرت، حقارت۔چن لیجیئے کہ ہمیں اپنے کردار کو کن جذبات سے بھرنا ہے۔اپنی عادات و اطوار کن اجزا سے تعمیر کرنی ہیں۔ فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے۔
kirdarکردار__!فرض کیجیئے آپ کسی محفل یا کسی عام جگہ کھڑے چائے پی رہے ہیں اور قریب سے گزرنے والا کوئی شخص، زور دار طریقے سے آپ سے ٹکرا جاتا ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کے کپ سے چائے چھلک جائے گی۔کوئی آپ سے دریافت کرے کہ آپ کے کپ سے چائے ہی کیوں چھلکی؟تو یقیناً آپ کا جواب ہوگا کہ جب کپ میں تھی ہی چائے تو چائے ہی چھلکنی تھی۔ کیونکہ وہی کچھ چھلکے گا، جو آپ کے کپ میں ہوگا۔بالکل اسی طرح زندگی میں ہمیں جب کبھی کوئی دھکا لگتا ہے، تو ہماری اصلیت چھلکتی ہے-یعنی جو ہمارے اندر تربیت کے ذریعے ڈالا گیا ہوگا یا کردار سازی کی صورت ہم نے خود اپنے اندر اکٹھا کررکھا ہوگا، وہ سامنے آ جاتا ہیں-انسان کی اصلیت تب ہی سامنے آتی ہے، جب اسے دھکا لگتا ہے یا کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے۔تو دیکھنا یہ ہے کہ آپ کو دھکا لگا، تو کیا چھلکا؟صبر، خاموشی، شکر گذاری، رواداری، سکون، انسانیت، وقار!یا__!غصہ، کڑواہٹ، جنون، حسد، نفرت، حقارت۔چن لیجیئے کہ ہمیں اپنے کردار کو کن جذبات سے بھرنا ہے۔اپنی عادات و اطوار کن اجزا سے تعمیر کرنی ہیں۔ فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے۔